اک ترے درد کو پہلو ميں چھپارکھا ہے ،اور تو پاس مرے ہجر ميں کيا رکھا ہے دل سے ارباب وفا کا ہے بھلانا مشکل ،ھم نے ان کے تغافل کو سنا رکھا ہے تم نے بال اپنے جو پھولوں ميں بسارکھے ہيں ،شوق کو اور بھي ديوانہ بنا رکھا ہے سخت بے درد ہے تاثير محبت کہ انہيں ،بستر ناز پہ سوتے سے جگا رکھا ہے آہ وہ ياديں کہ اس ياد کو ہو کر مجبور ،دل مايوس نے مدت سے بہلا رکھا ہے کيا تامل ہے مرے قتل ميں اے بازوئے يار ،اک ھي وار ميں سر تن سے جدا رکھا ہے حسن کو جور سے بيگانہ نہ سمجھ، کہ اسے ،يہ سبق عشق نے پہلے ہي پڑھا رکھا ہے تيري نسبت سے ستم گر ترے مايوسوں نے