فردوس جھوم اٹھی فضا گنگنانے لگی تم اگر مسرا اٹھو تو خدا مسکرا اٹھے اک بار مسکرا دو افسانہ چمن کا عنوان ہی بدل دو کلیوں کا دل مسل دو پھولوں کا سر کچل دو آکاش کی جوانی بادل میں چھپائے مہتاب ڈوب جائے تاروں کو نیند آئے زہرہ جبیں پری رو تمثیل ماہ و انجم آنکھیں شراب انگیں جذبات میں تلاطم کھلتے ہوئے لبوں پہ ہنستا ہوا ترانہ اے دلنواز پیکر خاطر میں ہے زمانہ لب ہائے احمریں پر نکھری ہوئی ہے لالی یہ ہلکی ہلکی سرخی تصویر ہے شفق کی آوارہ شوخ زلفیں رخسار چومتی ہیں بے خود میں جھومتی ہیں ہو زیست کا سہارا تم موج میں کنارا لیکن سنو خدارا اک بار مسکرا دو اک نوجواں مسافر فطرت کا لا ابالی اک عالم جنوں میں اک سمت چل رہا تھا جیسے کہ اپنی دھن میں پربت پہ چڑھ رہا تھا زلفیں کہ منتشر تھیں چہرے سے مضمحل تھا نظریں کہ راہ پہ تھیں کتنا شکستہ دل تھا ماضی کے دھندلکوں میں اک عکس پا رہا تھا گزرا ہوا زمانہ پھر یاد آرہا تھا ارماں تڑپ رہے تھے


Comments
Post a Comment